17 جون 2012 - 19:30

کوئٹہ کے علاقے سمنگلی روڈ پر ایف آئی اے کے دفتر کے قریب آئی ٹی یونیورسٹی کی بس کے قریب کار بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایک طالبہ سمیت کم از کم 6 طلباء شہید، جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں / بعض ذرا‏ئع نے کہا ہے کہ یہ راکٹ حملہ تھا / مذمتی بیانات۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ذرائع نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے علاقے سمنگلی روڈ پر ایف آئی اے کے دفتر کے قریب یونیورسٹی کی بس کے قریب دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 6 طلباء شہید، جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں / بعض ذرا‏ئع نے کہا ہے کہ یہ راکٹ حملہ تھا۔یہ دھماکہ اور دہشت گردانہ کاروائیوں کے تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی بظاہر کالعدم اور درحقیقت مکمل طور پر آزادانہ اور قعالانہ دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے والی تنظیمیں بدستور فعال ہیں اور انھوں نے اس بار اسمنگلی کی انجنئرنگ یونیورسٹی کی بس کو نشانہ بنایا ہے جس میں شیعہ طالب علم سوار تھے۔

اس دھماکے میں مزید تفصیلات کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کے دہشگردوں نے آج آئی ٹی یونیورسٹی کی ایک بس کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا، دھماکا ہوتے وقت بس میں 70 طلبہ سوار تھے جن میں سے ایک طالبہ سمیت چار افراد کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے۔ شہداء میں سے تین کی رشید، عقیل اور معصومہ کے ناموں سے شناخت ہوئی ہے۔ بعض ذرا‏ئع کا کہنا ہے کہ بس کو ریموٹ کنٹرول بم کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس دھماکے میں 40 سے پچاس کلوگرام دھماکہ خیز مود استعمال ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے اور کئی راہگیر اور ایک رکشہ ڈرائیور بھی دھماکے کی زد میں آکر زخمی ہوئے اور 30 زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے جنہیں کوئٹہ سی ایم ایچ منتقل کیا گیا ہے۔ سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر نے میڈیا کو بتایا کہ لگتا ہے کہ دھماکہ ریمورٹ کنٹرول تھا جسے ایک گاڑی میں نصب کیاگیا تھا جبکہ بعض ذرائع نے کہا ہے کہ یہ دھماکے راکٹ حملے کا نتیجہ تھا۔ویسے تو کوئٹہ میں شیعہ اساتذہ، وکیلوں، افسروں، سپاہیوں، زائرین، عزاداروں اور نمازیوں حتی کہ طالبعلموں پر دہشت گرد تنظیموں کے حملے معمول کی بات ہے لیکن یہ حملہ کئی حوالوں سے اہم ہے۔1۔ اس بار حملے میں طالبعلموں کی بس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔2۔ یہ حملہ نہایت حساس علاقے میں کیا گیا ہے جہاں ائیرفورس بیس، حساس اداروں کے دفاتر اور ایف سی نیز آرمی کا رہائشی ٹاؤن بھی واقع ہے اور یہ علاقہ ہر لحاظ سے سیکورٹی کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں کالعدم تنظیمیں بھی اپنی کاروائیوں میں مصروف عمل ہوتی ہیں اور یہاں کسی دہشت گرد کو گرفتار ہونے اور سزا پانے کا کوئي خظرہ محسوس نہيں ہوتا کیونکہ اگر وہ نمائشی کاروائیوں میں پکڑے بھی جائیں تو پاکستان کی عدلیہ انہیں رہا کردیتی ہے یا پھر سیکورٹی ادارے انہیں جیلوں سے نکال کر فرار کرواتے ہیں اور اس ملک میں جرم کے نتیجے میں سزا کا نظام مکمل طور پر منہدم ہوچکا ہے گو کہ پاکستان کی عدلیہ آزاد قضائی نظام کی دعویدار ہے۔

اس واقعے کے بعد بھی معمول کی کاروائی ہوئی؛ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لیا، گوکہ ایسا کرنے کا مقصد آج تک کسی کو معلوم نہیں ہوسکا؛ صدر آصف زرداري، وزيراعظم يوسف رضا گيلاني اور الطاف حسين نے اپنے الگ الگ بيانات ميں دھماکے کي شديد مذمت کي اور معمول کے مطابق دھماکے کے بعد سي سي پي او کوئٹہ زبير محمود نے کہا کہ دھماکے کا ٹارگٹ آئي ٹي يونيورسٹي کي بس تھي جو پوليس کي زير نگراني طلباء وطالبات کو لے کر منزل کي طرف رواں دواں تھيں گویا زبیر محمود ہی جانتے تھے کہ بس کو ٹارگٹ بنایا گیا ہے اور یہ کہ بس یونیورسٹی جارہی تھی گو کہ ان کی یات نئی سی تھی کہ بس پولیس کی نگرانی میں یونیورسٹی کی طرف رواں دواں تھی!۔

انہوں نے کہا "کہ دھماکے سے پہلے کسي قسم کي دھمکي يا پيشگي اطلاع نہ تھی۔

اور ہاں مشیر داخلہ ـ جو کبھی وزیر داخلہ تھے ـ نے بھی اپنے معمول کی بات دہراتے ہوئے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سيکرٹري داخلہ بلوچستان سے دھماکے کي رپورٹ طلب کر لي ہے۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ رپورٹ کس لئے درکار ہے!۔

..........

/110

علامہ ہاشم موسوی:طلباء کی بس پر خودکش حملہ دہشتگردوں کی درندگی کا مُنہ بولتا ثبوت ہےتصویری رپورٹ / شہدائے کویٹہ جنازہ و تشییع